بنگلور ، 15اکتوبر (ایس او نیوز)وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج بتایا کہ آبادی کے تناسب سے تعلیم اور روزگار میں 50 فیصد سے زائد ریزرویشن فراہم کرنے پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔اس خصوص میں ماہرین قانون سے تبادلۂ خیال کے بعد عنقریب فیصلہ لیا جائے گا۔ ودھان سودھا کے بینکویٹ ہال میں مہارشی والمیکی جینتی کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے بتایاکہ ریاست میں منصوبہ بندی شعبے کیلئے 85ہز ار کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جس میں پسماندہ طبقات وقبائل کو آبادی کے تناسب سے 24.1 فیصد کے حساب سے 19542 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ان طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے 11600 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ ایسے میں ان طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی ان اسکیموں سے استفادہ کریں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب کو معیاری تعلیم حاصل ہو اور اقتدار میں برابر حصہ داری ملے ، تب کہیں جاکر معاشرہ میں امن کا قیام ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بسونا ، گوتم بدھ، ڈاکٹر امبیڈکر ، کنکا داس اور مہارشی والمیکی جیسی عظیم ہستیوں کو مخصوص طبقات تک محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایاکہ ہمارے معاشرہ میں ذات پات کا نظام گہرا ہوچکا ہے۔ ایسے میں اس کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایاکہ رامائن جیسی عظیم کتاب کے مصنف والمیکی کی خدمات کے پیش نظر شہر کے مضافات میں والمیکی ریسرچ سنٹر کیلئے دس ایکڑ زمین فراہم کی گئی ہے۔اسی طرح ایل ایچ کے روبرو والمیکی راک پارک قائم کیاگیا ہے اور وہیں پر مجسمہ کی تنصیب کا کام بھی چل رہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ریاستی حکومت پسماندہ طبقات وقبائل کی فلاح وبہبود کی پابند ہے۔ اس موقع پر پانچ لاکھ روپے نقد پر مشتمل والمیکی ایوارڈ آنجہانی رام کرشنا ہیگڈے کی وزارت میں چھوٹی بچت کا قلمدان سنبھالنے والے سابق وزیر سی ویرنا کو پیش کیاگیا۔ اس موقع پر کنڑا پربھا اخبار کے ذریعہ والمیکی جینتی پر تیار خصوصی شمارے کا اجراء بھی عمل میں آیا۔اس موقع پر والمیکی گروپیٹھ کے پرسنا نندا پوری سوامی جی ، مرکزی وزیر برائے منصوبہ بندی ڈی وی سدانند گوڈا ، اسمبلی اسپیکر کے بی کولیواڈ ، وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا ، رکن کونسل وی ایس اگرپا کے علاوہ دیگر موجود تھے۔